اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی گزری ہیں جن کے کردار سے تاریخ کی تاریکیوں میں روشنی کی کرن پھوٹ پڑتی ہے
جب خلافت بنو اُمیہ سیاسی رنگ میں ڈوب چکی تھی
اقتدار دولت اور جاہ و حشمت کا کھیل بن گیا تھا
عدل و انصاف کا نظام درہم برہم ہو چکا تھا
عوام ظلم و جبر کے نیچے کراہ رہے تھے
اور امت میں قیادت سے مایوسی کی لہر دوڑ رہی تھی
ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے ایک مردِ صالح کو کھڑا کیا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ
اصلاح کا آغاز
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو 99 ہجری میں خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی آپ کے سامنے ایک بگڑی ہوئی سلطنت تھی عیش و عشرت میں مبتلا امراء خزانوں میں جمع دولت بیت المال کا غلط استعمال ظلم و ناانصافی کا دور دورہ تھا
مگر جب آپ نے خلافت کی باگ ڈور سنبھالی تو سب سے پہلے اپنے طرزِ زندگی کو بدل دیا
خلافت کی چادر اوڑھلی اور بادشاہت کی چمک دمک کو الوداع کہہ دیا
آپ نے فرمایا خلافت میرے لیے کوئی عزت یا راحت نہیں بلکہ ایک بوجھ ہے جس کا حساب مجھے رب کے سامنے دینا ہے
عدل و انصاف کی بحالی
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے چند ہی سالوں میں وہ انقلاب برپا کر دیا جو کئی خلفاء نہ کر سکے
انہوں نے حکومت کے نظام کو عدل تقویٰ اور شریعت کے اصولوں پر قائم کیا
ہر سطح پر احتساب کا نظام نافذ کیا
ظالم حکمرانوں اور گورنروں کو معزول کیا
بیت المال سے ناجائز طور پر حاصل کی گئی دولت واپس لے لی گئی
اپنے رشتہ داروں کو بھی رعایت نہ دی بنو اُمیہ کے امراء سے مال واپس لیا
ایک دن آپ کے چچا زاد بھائی نے کہا
یہ مال ہمارے باپ دادا نے جمع کیا تھا
آپ نے جواب دیا
ہاں مگر امت کا حق مار کراب وہ حق لوٹایا جائے گا
دولت کی منصفانہ تقسیم
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور میں بیت المال سے اس قدر عدل و انصاف کے ساتھ مال تقسیم ہوا کہ تاریخ گواہ ہے زکوٰۃ دینے والے باقی رہ گئےلینے والا کوئی نہ رہا
افریقہ کے ایک علاقے میں عاملِ زکوٰۃ نے اطلاع بھیجی کہ
ہم نے تلاش کیا مگر کوئی محتاج نہیں ملا
یہ وہی امت تھی جو ظلم و استحصال کی زندگی گزار رہی تھی
اور اب انصاف و رحمت کی چھاؤں میں آ گئی
علم و دعوت کی تجدید
آپ نے صرف مالی یا سیاسی اصلاح نہیں کی بلکہ علمی و فکری اصلاح بھی کی
اہلِ علم کو عزت دی
قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کیا
اہلِ حق محدثین و فقہاء کو خلافت کے قریب کیا
اور تعلیم و دعوت کے میدان کو وسعت دی
آپ نے فرمایا
اسلام کو عدل علم اور دعوت کے ذریعے سے مظبوط کیا جا سکتا ہے
ذاتی زہد و تقویٰ
اگر حکمران خود زاہد ہو تو اس کی رعیت بھی متاثر ہوتی ہے
آپ کی سادہ زندگی کا عالم یہ تھا کہ جب خلافت ملی تو محل کے چراغ بجھا دیے گئے
بیوی فاطمہ بنتِ عبدالملک جو خلیفہ کی بیٹی تھیں انہوں نے کہا
یہ کیا حالت بنا لی ہے
آپ نے فرمایا
فاطمہ میں نہیں چاہتا کہ عمر بن عبدالعزیز اللہ کے سامنے جواب دہ ہو اور اس کے پاس مظلوموں کا مال باقی رہ جائے
آپ کے لباس میں پیوند لگے ہوتے تھے
کھانے میں سادہ روٹی اور نمک ہوتا تھا اور راتوں میں امت کے معاملات کے لیکر جاگا کرتے تھے
مختصر خلافت مگر بیمثال اثر
صرف ڈھائی سال خلافت کی مگر ایسا اثر چھوڑا کہ صدیوں تک عدل و اصلاح کا معیار بن گیا
آپ کی وفات پر ایک شخص نے کہا
ہم نے عمر بن عبدالعزیز کو دیکھا وہ خلیفہ نہیں بلکہ خلافتِ راشدہ کی یادگار تھے
ایک مورخ لکھتا ہے
اگر عمر ابن الخطاب کے بعد کوئی خلیفہ راشدہ کے معیار کے قریب پہنچا تو وہ عمر بن عبدالعزیز تھے
پیغامِ دعوت و عزیمت
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی زندگی تاریخِ دعوت و عزیمت کا ایک درخشاں باب ہے
انہوں نے یہ سبق دیا کہ جب امت زوال کا شکار ہو
جب ظلم عام ہو
جب دین کمزور پڑ جائے
تو اصلاح عدل تقویٰ علم اور اخلاص سے آتی ہے۔
ان کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ قیادت اگر صالح ہو تو امت کی تقدیر بدل سکتی ہے
اور تقویٰ اور عدل کا چراغ جلتا رہے
تو ظلم کا اندھیرا خود بخود چھٹ جاتا ہے
نتیجہ
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے صرف ایک سلطنت نہیں سنبھالی
بلکہ ایک بگڑی ہوئی امت کی نبض کو ٹھیک کیا
ان کا پیغام آج کے دور کے علماء، حکمرانوں اور نوجوانوں کے لیے یہی ہے
کہ قیادت صرف اقتدار نہیں ایک امانت ہے
اور جب امانت عدل کے ساتھ ادا کی جائے
تو زمین پر امن علم اور رحمت کی بہار آ جاتی ہے
ماخوذ از : تاریخ دعوت وعزیمت