از مختار احمد رشادی
معاشرے میں ٹوٹی ہوئی شادیاں بکھرتے گھر اور نفسیاتی الجھنوں میں گرفتار بچیاں آج ایک لمحۂ فکریہ بن چکی ہیں اکثر والدین سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی بیٹیوں کی شادی ایک “مرد” سے کر رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ کردار تربیت اور ذمہ داری سے خالی بہت سے نوجوان صرف مرد دکھائی دیتے ہیں مگر عملی زندگی میں مرد ہونے کے بنیادی اوصاف سے ناآشنا رہتے ہیں نتیجتاً شادی شدہ زندگی کا پہلا سال ہی دل آزاری نااتفاقی اور سماجی دباؤ کے نذر ہوجاتا ہے
یہ ضروری ہے کہ والدین رشتے کے معاملے میں چند بنیادی مگر نہایت حساس پہلوؤں کو نظرانداز نہ کریں آج کا نوجوان تعلیم یافتہ ضرور ہے مگر بہت بڑی تعداد تربیت احساسِ ذمہ داری اور ازدواجی شعور سے محروم ہے یہی خلا شادی کے بعد شدید مسائل کو جنم دیتا ہے
ماں کے سائے میں پل کر مرد نہ بن پانے والے لڑکے
یہ ایک بڑی سماجی حقیقت ہے کہ لڑکوں کی بڑی تعداد 25 سے 30 سال کی عمر تک پہنچ کر بھی شخصی خود مختاری حاصل نہیں کر پاتی وہ ہر فیصلے میں ماں کی طرف دیکھتے ہیں ہر مسئلہ میں انہی کی اجازت کے منتظر رہتے ہیں اور اپنی بیوی کے ہر معاملے کو بھی ماں کی مرضی سے مشروط رکھتے ہیں
یہ بات واضح ہے کہ ماں کا احترام ضروری ہے لیکن ایک حد کے بعد یہ وابستگی شخصیت کی کمزوری بن جاتی ہے ایسا نوجوان شادی کے بعد اپنی شریکِ حیات کے معاملات کو بھی اپنی ماں کی ہدایات کے مطابق چلانے کی کوشش کرتا ہے جس سے دو مختلف سوچیں ٹکرا کر گھر کا سکون برباد کر دیتی ہیں عورت کو صرف خادمہ سمجھنے کی غلط ذہنیت اور غیر تربیت یافتہ نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ شادی کا مقصد بس خدمت ، اولاد اور خواہشات کی تکمیل ہے وہ بیوی کو شریکِ حیات نہیں بلکہ ایک ذمہ داری نبھانے والی ملازمہ تصور کرتے ہیں
حقیقی مرد وہ ہے جو عورت کو اپنے برابر کا انسان مانے اس کی رائے کی قدر کرے بات چیت کرے اور اسے زندگی کے فیصلوں میں شریک رکھے ازدواجی رشتہ باہمی احترام کے بغیر کبھی مضبوط نہیں ہوسکتا
جوائنٹ فیملی سسٹم میں شوہر کا کمزور کردار
ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام اکثر بہو کیلئے آزمائش بن جاتا ہے خاص طور پر جب شوہر کمزور غیر فیصلہ کن یا مصلحت پسند ہو ایسے گھروں میں عورت کی تذلیل بعض اوقات خاندان کے افراد کا معمول بن جاتی ہے اور شوہر صورتحال کو “کچھ نہ کہنے ہی میں بھلائی ہے” کہہ کر نظرانداز کر دیتا ہے
مگر یاد رہے:
عورت کا تحفظ شوہر کی اولین ذمہ داری ہے
مرد وہی ہے جو بے جا مداخلت زیادتی یا تذلیل کے سامنے ڈٹ کر اپنی بیوی کا ساتھ دے چاہے غلطی کرنے والا اس کا بھائی ہو بہن ہو یا پھر اپنے والدین ہی کیوں نہ ہوں
ہاتھ اٹھانے کو اختیار سمجھنے والے
نوجوان غصے کا حل ہاتھ اٹھانے میں ڈھونڈتے ہیں ان میں مردانگی نہیں بلکہ کمزوری پائی جاتی ہے سمجھدار مرد اختلاف کو گفتگو خاموشی یا وقتی دوری سے حل کرتا ہے نہ کہ تشدد سے
تشدد صرف رشتوں کو نہیں انسانیت کو بھی مجروح کرتا ہے
عورت کو برداشت کرنے کی صلاحیت مردانگی کا اصل امتحان
عورت ایک حساس جذباتی اور فطری طور پر مختلف مزاج رکھنے والی مخلوق ہے اور یہ حقیقت ہے کہ عورتیں بعض اوقات خود ایک دوسرے کے ساتھ مشکل سے نباہ کرتی ہیں ایسے میں شوہر ہی وہ واحد شخص ہوتا ہے جو توازن قائم کر سکتا ہے اگر اس میں برداشت حکمت اور تحمل نہ ہو تو گھر کبھی بھی سکون کا گہوارہ نہیں بن سکتا
ہمیں اپنے لڑکوں کو صرف تعلیم نہیں تربیت بھی دینی ہوگی
اگر ہم معاشرے کو ٹوٹتے گھروں سے بچانا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ لڑکوں میں:
- ذمہ داری، برداشت ،فیصلہ سازی،احترامِ نسواں،نرم گفتاری
- خودمختاری،اور ازدواجی شعور
پیدا کیا جائے صرف ڈگری یافتہ ہونا مرد ہونے کی دلیل نہیں
والدین کیلئے پیغام
جب بھی بیٹی کا رشتہ کریں صرف خاندان تنخواہ نوکری یا اسٹیٹس نہ دیکھیں
یہ دیکھیں:
- کیا وہ لڑکا خودمختار سوچ رکھتا ہے؟
- کیا وہ بیوی کو انسان سمجھتا ہے یا خادمہ؟
- کیا وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھتا ہے؟
- کیا وہ اپنی بیوی کی عزت و حفاظت کر سکے گا؟
- کیا وہ غصے اور اختلاف کو سمجھداری سے سنبھال سکتا ہے؟
اگر یہ خصوصیات موجود نہ ہوں تو رشتہ کرنا گویا بیٹی کو زندگی بھر کی اذیت کے حوالے کرنا ہے
معاشرہ اُس دن سنورے گا جس دن ہم مرد دکھائی دینے والے لڑکوں کو حقیقی مرد بنانا شروع کریں گے
۔