
اس واقعہ کوبخاری (2272)ومسلم (2743)واحمد(116/2) بیان کیا ہے حضرت عبداللہ اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ پچھلی امت میں تین آدمی تھے ایک دفعہ کہیں چلے جارہے تھے تھے کہ دوران سفران کو ایک غار میں رات گزارنی پڑی چنانچہ وہ تینوں ایک غار کے اندر داخل ہوگئے تھوڑی دیر میں ایک بڑا سا پتھر سرک کر لڑکا اور غار کے منہ پر آ کر بیٹھ گیا غار کا منہ بند ہوگیا ان تینوں نے بڑی کوشش کی کہ اس پتھر کو ہٹائیں مگر وہ پتھر بڑا تھا اس کو ہٹا نہیں پائے سب کہنے لگے کہ پتھر سے نجات اور خلاصی کی یہی صورت ہے کہ ہر آدمی اپنے نیک عمل کا اللہ تعالی کے سامنے وسیلہ پیش کرے اور دعا کرے ان میں سے ایک آدمی نے اللہ سے دعا کی اے اللہ میرے بوڑھے ماں باپ تھے میں ان سے پہلے اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتا تھا میں دن بھر بکریوں کو چرانے کے لئے جنگل میں لے جایا کرتا تھا ایک دن درختوں کی تلاش میں دور نکل گیاجب شام کو واپس آیا تو میرے والدین سو چکے تھے میں نے سب سے پہلے اپنی بکریوں کا دودھ دوہا اور اس دودھ کو لے کر اپنے ماں باپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ سو گئے تھے میں نے ان کو جگانا پسند نہیں کیا اور مجھے یہ بات بھی اچھی نہیں لگی کہ میں اپنے بوڑھے ماں باپ سے پہلے اپنے بچوں کو اپنی بیوی کو دودھ پلاؤں چنا نچہ میں اسی حالت میں ان کے پاؤں کے نزدیک دودھ کا پیالہ لے کر کھڑا ہو گیا اور ان کے جاگنے کا انتظار کرنے لگا میرے بچے میرے پاؤں میں دودھ پینے کے لیے بلبلا رہے تھے مگر میں نے ان کو نہیں دیا کیونکہ میری غیرت گوارہ نہیں کر رہی تھی یہاں تک کہ ساری رات گزر گئی اور جب صبح ہوگی تو میرے والدین بیدار ہوگئے تو میں نے انہیں وہ دودھ دیا اس کے بعد میں نے اپنے بچوں کو دودھ پلایا اللہ اگر میں نے یہ کام تیری رضا کے لئے کیا تھا تو اس پتھر کو اس غار سے ہٹا دے جس کی وجہ سے آج ہم پریشانی میں مبتلا ہے چنانچہ اللہ نے دعا قبول کی وہ پتھر تھوڑا سا ہٹ گیا ابھی بھی اس غار سے نکلنا مشکل تھاپھردوسرے آدمی نے یوں دعا کی اے اللہ میری ایک چچازادبہن تھی وہ مجھے بہت پسند تھی بلکہ ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ میں اس سے اس قدر محبت کرتا تھا جس قدر کوئی مرد کسی عورت سے کرتا ہو بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ ایک دن میرے دل میں اس کے ساتھ زنا کرنے کا خیال پیدا ہوا تو میں نے اس کے سامنے اظہار کیا تو اس نے انکار کر دیا وہ نہیں مانی یہاں تک کہ وہ قحط سالی میں مبتلا ہوگئی اور وہ میرے پاس آئی میں نے اس کو ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیئے کہ وہ مجھے زنا کا موقع دے گی بہت مجبور تھی تو تیار ہوگی یہانتک کہ جب میں نے اس پر پوری طرح قابو پا لیا اور جب میں اس کے دونوں ٹانگوں کے درمیان میں غلط کام کے ارادے سے بیٹھ گیا تو اچانک چیخ کر کہنے لگی نہ کرو نہ کرو جب وہ چیخنے لگی گی تو میں نے اس سے کہا کہ میں نے تو تمہیں ہرگز مجبور نہیں کیا تھا تم یہاں اپنی مرضی سے آئی ہوں اب تم کیوں اس طرح چیخ رہی ہو تو اس نے کہا کہ جائز طریقے سے پردہ بکارت کو زائل کرو اللہ سے ڈرو اس طرح کی حرکت نہ کرو میری بری حالت نے مجھے مجبور کر دیا تو میں یہاں تک آگئی تم اللہ سے ڈرو بس میں اس سے دور ہو گیا حالانکہ وہ مجھے بہت زیادہ پسند تھی بہت محبوب تھی اور جو سونا میں نے اس کو دیا تھا وہ واپس نہیں لیا اے اللہ اگر میں نے یہ کام تیری خوشنودی کے لئے کیا تھا تو تواس مصیبت سے ہمیں چھٹکارہ دے دے جس میں ہم سب مبتلا ہیں چنانچہ وہ پتھر تھوڑا سا مزید اپنی جگہ سے ہٹ گیا لیکن ابھی بھی اس غار سے نکلنا مشکل تھا پھر تیسرے آدمی نے اللہ سے یہ دعا کی اے اللہ میں نے چند مزدور اجرت پر رکھے تھے ایک آدمی کے سوا میں نے سب کی مزدوری ادا کردی وہ آدمی جس کی مزدوری میں نے نہیں دی تھی وہ اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا تھا ایک عرصے کے بعد جب وہ لوٹ کر آیا تو اس نے کہا اے اللہ کے بندے میری اجرت مجھے دے دے میں نے کہا یہ گائے بکریاں اور غلام جو تمہیں نظر آرہے ہیں یہ سب کے سب تمہاری ہی اجرت ہے اس نے کہا اللہ کے بندے میرے ساتھ مذاق نہ کر میں نے کہا میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کر رہا ہوں تم جو اجرت چھوڑ کر گئے تھے اسی روپئے پیسوں کو میں نے کام میں لگایا اور اسی سے یہ سب گائے بکریاں اور خریدا ہوں یہ تمہارے ہی اجرت میں سے ہیں تم اس کو لے لو چنانچہ اس نے وہ سارا کا سارا مال لے لیا اور سارے جانور ہاںک کر لے گیا کوئی چیز بھی اس نے نہیں چھوڑی اے اللہ اگر میں نے یہ کام تیری رضا کے لئے کیا تھا تو تو ہمیں اس مصیبت سے چھٹکارا عطا فرما چنانچہ وہ پتھر دور ہوگیا اور وہ تینوں اس غار سے باہر نکل آئے
اس واقعے سے یہ معلوم ہوا کہ مشکلات اور پریشانیوں میں اللہ تعالی سے دعا کرنی چاہیے اللہ سے مانگنا چاہیے آئے اور اپنے نیک اعمال کو وسیلہ بنا کر پیش کرنا چاہیے بلا و مصیبت سے نجات حاصل کرنے میں بندے کے تقوی کا بڑا دخل ہوتا ہے اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے اور پاکدامنی عفت اور عزت کی زندگی گزارنی چاہیے اللہ تبارک و تعالی ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے