حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کا ایمان افروز واقعہ اور قیصرِ روم کی پیش کش

حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ اور قیصرِ روم کا ایمان افروز واقعہ حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ تاریخ اسلام کے وہ عظیم صحابی ہیں جنہوں نے وقت کی سپر پاور کے سامنے کلمہ حق بلند کیا۔ آپ کی زندگی کا یہ واقعہ ایمان کی پختگی، استقامت اور اللہ پر کامل بھروسے کی ایک نادر مثال ہے۔رومیوں کی قید اور قیصر کا دربارخلیفہ ثانی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں رومیوں کے خلاف ایک جنگی مہم کے دوران حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو رومی فوج نے گرفتار کر لیا۔ قیصرِ روم نے اپنے افسروں کو پہلے ہی ہدایت دے رکھی تھی کہ اگر کوئی مسلمان قیدی ہاتھ آئے تو اسے قتل کرنے کے بجائے زندہ پیش کیا جائے۔جب آپ کو دربار میں لایا گیا تو قیصر نے آپ کے رعب اور شخصیت سے متاثر ہو کر نصرانیت (عیسائیت) قبول کرنے کی دعوت دی اور کہا:”اگر تم میری بات مان لو تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا اور تمہارے ساتھ عزت و اکرام کا بہترین سلوک کروں گا۔”حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس پیش کش کو حقارت سے ٹھکرا دیا اور فرمایا:”موت مجھے تمہاری اس پیش کش سے ہزار گنا زیادہ محبوب ہے۔”

حکومت کی پیش کش اور بے نیازی

قیصر نے آپ کو شیشے میں اتارنے کے لیے ایک اور بڑی پیش کش کی: “اگر تم میرا دین قبول کر لو تو میں تمہیں اپنی آدھی سلطنت کا مالک بنا دوں گا اور حکومت میں شریک کرلوں گا۔”ایک قیدی کی زبان سے ایسے موقع پر وہ تاریخی الفاظ نکلے جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے گئے:”اللہ کی قسم! اگر تم عرب و عجم کی ساری سلطنت بھی مجھے دے دو اور اس کے بدلے صرف یہ چاہو کہ میں ایک لمحے کے لیے دینِ محمدی ﷺ سے پھر جاؤں، تو یہ بھی مجھے ہرگز قبول نہیں۔”آزمائش کی انتہا اور کھولتا ہوا تیلقیصر نے غصے میں آکر آپ کو تختہ دار پر لٹکایا اور تیر اندازی کا حکم دیا۔ اس کے بعد ایک بڑی دیگ میں تیل کھولایا گیا اور آپ کے سامنے ایک مسلمان قیدی کو اس میں ڈال دیا گیا، جس سے اس کا گوشت ہڈیوں سے الگ ہو گیا۔ قیصر نے دوبارہ نصرانیت کی دعوت دی، مگر آپ کے پائے استقامت میں لرزش نہ آئی۔آخر کار جب آپ کو دیگ کی طرف لے جایا گیا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ قیصر نے سمجھا کہ شاید اب آپ ٹوٹ گئے ہیں، لیکن آپ نے رونے کی جو وجہ بتائی وہ ایمان کی روح ہے:”میں اس لیے رو رہا ہوں کہ کاش میرے جسم کے ہر بال کے برابر میری جانیں ہوتیں اور وہ سب اللہ کے دین کے لیے اس دیگ میں ڈالی جاتیں۔”

حکمتِ عملی اور مسلمانوں کی رہائی

قیصر اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے کہا: “صرف میرے ماتھے پر بوسہ دے دو تو میں تمہیں اور تمہارے تمام مسلمان ساتھیوں کو رہا کر دوں گا۔” حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ اللہ کے دشمن کے سر پر بوسہ دینے سے اگر 80 مسلمانوں کی جان بچتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ آپ نے ایسا ہی کیا اور تمام قیدیوں کو لے کر مدینہ منورہ پہنچے۔مدینہ پہنچنے پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس قدر خوش ہوئے کہ فرمایا:”ہر مسلمان پر یہ حق ہے کہ وہ عبداللہ بن حذافہ کے سر کا بوسہ دے، اور میں اس کی ابتدا کرتا ہوں۔” پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر آپ کے سر کا بوسہ لیا۔واقعے سے حاصل ہونے والے دروس اور نصائحدینی شعائر کی اہمیت: اللہ کے دین سے منسوب ہر چیز کا احترام لازم ہے۔ جس طرح کسریٰ نے خط پھاڑ کر اپنی تباہی کو دعوت دی، اسی طرح دین پر ثابت قدمی کامیابی کی ضمانت ہے۔

استقامت فی الدین:

دنیاوی لالچ اور بڑے سے بڑا اقتدار بھی مومن کے ایمان کی قیمت نہیں ہو سکتا۔امتحان اور آزمائش: اللہ تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کو آزماتا ہے تاکہ ان کی سچائی کو دنیا پر ظاہر کر دے۔ایثار و قربانی: اپنی ذات سے بڑھ کر اپنے بھائیوں اور ملت کے مفاد کو مقدم رکھنا صحابہ کا خاصہ تھا۔ ایسی مزید علمی اور تاریخی تحریروں کے لیے ہمارے ساتھ وابستہ رہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top