حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کا فقید المثال زہد: فاتحِ شام کی سادگی پر حضرت عمر فاروقؓ اشکبار ہو گئے

اسلامی تاریخ کے درخشاں صفحات ایسے جلیل القدر کرداروں سے مزین ہیں جن کے سامنے دنیاوی جاہ و جلال، شاہی محلات اور خزانوں کے ڈھیر ہیچ ہو کر رہ گئے۔ انہی ہستیوں میں فاتحِ شام اور عشرہ مبشرہ میں شامل صحابی حضرت ابو عبیدہ عامر بن عبد اللہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سرِفہرست ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے آپ کو امت کی امانت داری کا عظیم تمغہ عطا فرمایا تھا۔ جب وہ شام جیسے وسیع و عریض خطے کے گورنر اور افواجِ اسلامیہ کے سپہ سالار تھے تب بھی ان کے زہد و فقر کا یہ عالم تھا کہ خلیفۂ وقت حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو رلا دیا۔

1. امینِ امت کا نبوی لقب (مستند حوالہ)

رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی دیانت، امانت اور تقویٰ کی گواہی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا، وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيَّتُهَا الأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الجَرَّاحِ

بے شک ہر امت کا ایک امانت دار ہوتا ہے اور اے امت ہمارا امانت دار ابو عبیدہ بن جراح ہے۔

  • صحیح البخاری کتاب المناقب، باب مناقب أبي عبيدة بن الجراح رضي الله عنه (حدیث نمبر: 3744، نیز حدیث: 4382، 7255)
  • صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل أبي عبيدة بن الجراح رضي الله عنه (حدیث نمبر: 2419 / 6252)

2. امیر المومنین کا دورۂ شام اور گورنر کا محاسبہ

خلیفۂ دوم امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے دورِ خلافت میں صوبوں اور عمالِ حکومت کا خود جائزہ لیا کرتے تھے تاکہ رعایا کے احوال اور حکام کی طرزِ زندگی کی نگرانی کر سکیں۔

جب حضرت عمر فاروقؓ شام تشریف لائے تو حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ سے ملاقات ہوئی۔ بات چیت کے دوران امیر المومنین نے خواہش ظاہر کی

اے ابو عبیدہ مجھے اپنے گھر لے چلو میں تمہارا ٹھکانہ دیکھنا چاہتا ہوں۔

حضرت ابو عبیدہؓ نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ عرض کیا

امیر المومنین آپ میرے گھر جا کر کیا کریں گے؟ آپ تو بس یہ چاہتے ہیں کہ مجھ پر آپ کی آنکھیں اشکبار ہو جائیں (یعنی آپ رو پڑیں)۔

لیکن حضرت عمرؓ کے اصرار پر وہ امیر المومنین کو اپنے گھر لے گئے۔

3. فاتحِ شام کے گھر کا کل اثاثہ

جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حاکمِ شام کے مکان میں داخل ہوئے تو وہاں کی سادگی دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ رومی قیصر کی افواج کو شکست دینے والے عظیم سپہ سالار کے گھر میں کوئی قالین ریشمی پردے یا دنیاوی سامان موجود نہ تھا۔

روایات کے مطابق گھر کے کل اثاثے میں صرف یہ چیزیں شامل تھیں

  • بیٹھنے یا لیٹنے کے لیے ایک پرانی چٹائی یا کمبل (لِبْد)
  • پانی پینے اور رکھنے کا پرانا مشکیزہ (شَنّ)
  • کھانے پینے کا ایک عام پیالہ/برتن (صَحْفَة)
  • اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے تلوار اور ڈھال

حضرت عمرؓ نے حیران ہو کر پوچھا:

أين متاعك؟ (تمہارا ساز و سامان کہاں ہے؟ میں تو اس مشکیزے پیالے اور چٹائی کے سوا کچھ نہیں دیکھ رہا حالانکہ تم یہاں کے امیر ہو)

حضرت ابو عبیدہؓ نے نہایت اطمینان سے فرمایا:

يا أمير المؤمنين يكفيك من الدنيا ما بلغك المقيل

(اے امیر المومنین دنیا میں سے انسان کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے جو اسے منزلِ مقصود یا آرام گاہ تک پہنچا دے)

4. گورنر شام کی ضیافت سوکھی روٹی کے ٹکڑے

حضرت عمرؓ نے دریافت فرمایا کیا گھر میں کچھ کھانے کو ہے؟

حضرت ابو عبیدہؓ اٹھے اور ایک چھوٹی ٹوکری یا برتن (جَوْنَة) سے سوکھی روٹی کے چند ٹکڑے نکال لائے جو پانی میں بھگو کر نرم کیے گئے تھے۔

جب حضرت عمر فاروقؓ نے دیکھا کہ آدھی دنیا کے خزانے ان کے قدموں میں ہونے کے باوجود حاکمِ شام سوکھی روٹی پانی کے ساتھ کھا کر گزارا کر رہا ہے تو امیر المومنین ضبط نہ کر سکے اور زار و قطار رونے لگے۔

5. حضرت عمر فاروقؓ کا تاریخی خراجِ تحسین

امیر المومنین نے آنسو پونچھتے ہوئے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن گیا

غَيَّرَتْنَا الدُّنْيَا كُلَّنَا غَيْرَكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ

اے ابو عبیدہ دنیا نے ہم سب کو کسی نہ کسی حد تک بدل ڈالا لیکن دنیا تجھے بالکل نہ بدل سکی۔

6. اس تاریخی واقعے کے بنیادی مصادر و کتبِ احادیث

یہ واقعہ کتبِ تاریخ سیرت اور احادیث کے آثار میں متعدد معتبر اسناد کے ساتھ منقول ہے

  • کتاب الزہد از امام ابوداؤد السجستانیؒ: (حدیث / اثر نمبر: 123)
  • المصنف از امام عبد الرزاق الصنعانیؒ: (جلد 11، اثر نمبر: 20624 / 2062)
  • حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء از حافظ ابو نعیم الاصفہانیؒ: (تذکرہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ، 1/102)
  • سیر اعلام النبلاء از امام شمس الدین الذہبیؒ: (سیرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ، 1/21-23)
  • الطبقات الکبریٰ از ابن سعدؒ: (طبقات البدریین من المہاجرین، ذکر ابو عبیدہ بن الجراحؓ)

7. عصرِ حاضر کے لیے بصیرت افروز اسباق

  • اقتدار امانت ہے عیاشی کا ذریعہ نہیں حضرت ابو عبیدہؓ نے ثابت کیا کہ منصب ذاتی بینک بیلنس بڑھانے کا نام نہیں بلکہ مخلوقِ خدا کے حقوق کی پاسداری کا نام ہے۔
  • زہد اور دل کی بے نیازی دنیا ہاتھوں میں ہو مگر دل میں داخل نہ ہو—یہی صحابہ کا طریقہ تھا۔
  • رزقِ حلال اور قناعت آج انسان دنیا اور بال بچوں کی آسائش کی خاطر جھوٹ، فریب اور بددیانتی کی راہ اپناتا ہے۔ اگر مال حرام کا ہو تو وہ گھر میں کبھی برکت اور سکون نہیں لا سکتا۔ رب کو راضی رکھ کر چند نوالوں پر صبر کر لینا آخرت کی دائمی بادشاہت کا ضامن ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top