ایک عبرت ناک واقعہ: ثعلبہ بن حاطب کا انجام اور ۳ اہم اسباق

انسان جب تک محتاج ہوتا ہے، بارگاہِ الٰہی میں عاجزی اختیار کرتا ہے، لیکن جیسے ہی مال و دولت کی فراوانی ہوتی ہے، بسا اوقات وہ سرکشی پر اتر آتا ہے۔ تاریخِ اسلام میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں جو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہی میں سے ایک عبرت ناک واقعہ حضرت ثعلبہ بن حاطب انصاری رضی اللہ عنہ کا ہے، جن کا انجام لالچ اور زکوٰۃ سے انکار کی وجہ سے انتہائی دردناک ہوا۔

ثعلبہ بن حاطب کی کثرتِ مال کی خواہش

حضرت ثعلبہ بن حاطب انصاری رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے انصار میں سے تھے اور ابتدا میں انتہائی غریب تھے۔ وہ مسجدِ نبوی میں باقاعدگی سے نماز ادا کرتے تھے، جس کی وجہ سے انہیں “مسجد کا کبوتر” بھی کہا جاتا تھا۔

ایک دن انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کیا:

“یا رسول اللہ ﷺ! اللہ سے دعا فرما دیجیے کہ وہ مجھے کثیر مال عطا فرمائے۔”

رسول اللہ ﷺ نے ان کی حالتِ زار اور دل کی کمزوری کو بھانپتے ہوئے انہیں نصیحت فرمائی اور ارشاد فرمایا:

“اے ثعلبہ! وہ قلیل مال جس کا تم شکر ادا کر سکو، اس کثیر مال سے بہتر ہے جس کی تم طاقت نہ رکھو۔ کیا تمہارے لیے اللہ کے رسول ﷺ کا اسوہ کافی نہیں؟ خدا کی قسم! اگر میں چاہوں تو یہ پہاڑ میرے ساتھ سونے اور چاندی بن کر چلیں۔”

لیکن ثعلبہ اپنی خواہش پر اصرار کرتے رہے اور دوبارہ عرض کیا کہ اگر اللہ نے مجھے مال دیا تو میں ہر حقدار کو اس کا حق دوں گا۔ بالآخر آپ ﷺ نے ان کے لیے برکت کی دعا فرما دی۔

مال کی فراوانی اور دین سے دوری

دعاِ رسول ﷺ کی برکت سے ثعلبہ نے بکریاں پالنا شروع کیں اور ان میں اتنی برکت ہوئی کہ وہ مدینہ کی وادیوں میں نہ سما سکیں۔ مال کی اسی کثرت نے انہیں آہستہ آہستہ دین سے دور کرنا شروع کر دیا۔

  • پہلا مرحلہ: انہوں نے مدینہ سے باہر ڈیرہ جما لیا، جس کی وجہ سے وہ صرف ظہر اور عصر کی نماز مسجدِ نبوی میں پڑھ پاتے اور باقی نمازیں چھوڑ دیتے تھے۔
  • دوسرا مرحلہ: بکریاں مزید بڑھیں تو وہ مدینہ سے اتنے دور چلے گئے کہ انہوں نے جمعہ کی نماز اور باقاعدہ جماعت بھی چھوڑ دی۔ رسول اللہ ﷺ جب بھی ان کے بارے میں پوچھتے، تو صحابہ عرض کرتے کہ ان کا مال بہت بڑھ گیا ہے۔ آپ ﷺ افسوس سے فرماتے: “افسوس ہے ثعلبہ پر! افسوس ہے ثعلبہ پر!”

زکوٰۃ سے انکار اور معافی کی اپیل

جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا، تو رسول اللہ ﷺ نے دو صحابہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ جب وہ ثعلبہ کے پاس پہنچے اور زکوٰۃ کا مطالبہ کیا، تو ثعلبہ کے دل میں مال کی محبت اس قدر راسخ ہو چکی تھی کہ انہوں نے زکوٰۃ کے حکم کو (نعوذ باللہ) جزیہ سے تشبیہ دی اور کہا:

“یہ تو جزیہ کی طرح کی کوئی چیز ہے، تم ابھی جاؤ، واپسی پر آنا۔”

جب رسول اللہ ﷺ کو اس بات کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ان کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں:

وَمِنْهُم مَّنْ عَاهَدَ اللَّهَ لَئِنْ آتَانَا مِن فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ ﴿٧٥﴾ فَلَمَّا آتَاهُم مِّن فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِضُونَ ﴿٧٦﴾

“اور ان میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے عطا فرمائے گا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور صالحین میں سے ہو جائیں گے۔ پھر جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا تو انہوں نے اس میں بخل کیا اور منہ موڑ کر پھر گئے۔” (سورہ التوبہ: 75-76)

جب ثعلبہ کو ان آیات کے نازل ہونے اور اپنی بربادی کا علم ہوا، تو وہ روتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں زکوٰۃ لے کر پہنچے، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا:

“اللہ نے مجھے تمہاری زکوٰۃ قبول کرنے سے منع فرما دیا ہے۔”

آپ ﷺ کے وصال کے بعد، ثعلبہ حضرت ابوبکر صدیق، پھر حضرت عمر فاروق، اور پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے پاس بھی اپنی زکوٰۃ لے کر گئے، لیکن سب نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ “جس چیز کو رسول اللہ ﷺ نے قبول نہیں کیا، اسے ہم کیسے قبول کر سکتے ہیں؟” بالآخر اسی حسرت اور نافرمانی کی حالت میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ان کا انتقال ہو گیا۔

واقعے کے مستند دلائل اور حولہ جات

یہ واقعہ اسلامی تاریخ، تفاسیر اور احادیث کی مستند کتابوں میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے:

  1. تفسیر ابن کثیر: سورہ التوبہ، آیت 75-76 کی تفسیر کے تحت یہ پورا واقعہ تفصیل سے نقل کیا گیا ہے۔
  2. تفسیر الطبری: امام جریر الطبری نے بھی اس واقعے کو اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
  3. المعجم الکبیر للطبرانی: امام طبرانی نے اس واقعے کو روایت کیا ہے، جو مال کی محبت کے نقصانات پر واضح دلیل ہے۔

اس واقعے سے حاصل ہونے والے ۳ اہم اسباق

زکوٰۃ کی اہمیت: زکوٰۃ اسلام کا ایک اہم رکن ہے، اس سے انکار یا سستی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے۔

عہد کی پابندی: انسان کو اللہ سے کیے گئے ہر عہد کو پورا کرنا چاہیے، ورنہ دل میں منافقت پیدا ہو جاتی ہے۔

مال کا فتنہ: مال و دولت ہمیشہ انسان کے ایمان کا امتحان ہوتی ہے، کثرتِ مال انسان کو غافل کر سکتی ہے۔

مزید اسلامی واقعات پڑھنے کے لئے یہاں پر کلک کریں

1 thought on “ایک عبرت ناک واقعہ: ثعلبہ بن حاطب کا انجام اور ۳ اہم اسباق”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top