آج ہم آپ کے سامنے ایک ایسا رلا دینے والا خوف خدا کا واقعہ پیش کر رہے ہیں جس میں ایک نوجوان صحابی حضرت ثعلبہؓ کی سچی توبہ کا ذکر ہے۔ آج کے اس دور میں جہاں گناہ کرنا، خاص طور پر آنکھوں کا گناہ (بدنظری)، موبائل اور انٹرنیٹ کی وجہ سے بے حد عام ہو چکا ہے، ہم گناہ کر کے بھول جاتے ہیں۔ لیکن تاریخِ اسلام کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ والوں کا دل گناہ کے خوف سے کیسے کانپتا تھا۔
حضرت ثعلبہؓ اور خوف خدا کا واقعہ
یہ واقعہ ایک نوجوان صحابی حضرت ثعلبہ بن عبدالرحمٰن انصاری رضی اللہ عنہ کا ہے۔ آپؓ حضور نبی کریم ﷺ کے بہت قریبی خادم تھے اور ہر وقت آپ ﷺ کی خدمت کے لیے تیار رہتے تھے۔
اچانک نظر کا پڑ جانا اور احساسِ گناہ
ایک دن رسول اللہ ﷺ نے انہیں کسی کام سے بھیجا۔ وہ مدینہ کی ایک گلی سے گزر رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر ایک گھر کے کھلے ہوئے دروازے کے اندر پڑ گئی، جہاں ایک غیر محرم عورت نامناسب حالت میں تھی۔ نظر کا پڑنا اچانک اور نادانستہ تھا، لیکن حضرت ثعلبہؓ کو فوراً احساسِ گناہ نے گھیر لیا۔
مدینہ سے دوری اور پہاڑوں میں روپوش ہونا
ان کے دل میں خوف اس قدر غالب آ گیا کہ وہ یہ سوچ کر کانپ اٹھے کہ: “کہیں آسمان سے وحی نازل نہ ہو جائے اور میرے اس فعل کی وجہ سے مجھے منافقین میں شامل نہ کر دیا جائے، اور رسول اللہ ﷺ مجھ سے ناراض نہ ہو جائیں۔”
شدید ندامت اور شرمندگی کے باعث وہ واپس نبی کریم ﷺ کی خدمت میں جانے کے بجائے مدینہ چھوڑ کر مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع دور دراز پہاڑوں میں نکل گئے اور رو رو کر اللہ سے معافی مانگنے لگے۔ تاریخِ اسلام کا یہ خوف خدا کا واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ سچا ایمان انسان کو بے چین کر دیتا ہے۔
جبریلِ امین علیہ السلام کی آمد
کئی دن گزر گئے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے بارے میں دریافت فرمایا کہ ثعلبہ کہاں ہے؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ کئی دنوں سے ان کا کچھ پتا نہیں۔
چالیس دن گزرنے کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: “یا رسول اللہ! آپ کا رب آپ کو سلام پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ آپ کی امت کا ایک شخص فلاں پہاڑوں میں مجھ سے پناہ مانگ رہا ہے۔” یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت سلمان فارسیؓ کو انہیں تلاش کرنے بھیجا۔
پہاڑوں کے درمیان ایک دردناک منظر
جب یہ دونوں صحابہ ان پہاڑوں میں پہنچے تو وہاں کے ایک چرواہے نے بتایا کہ: “کیا تم اس روتے ہوئے نوجوان کو تلاش کر رہے ہو جو رات کے وقت غار سے نکلتا ہے، اس کے چہرے پر آنسوؤں کی لکیریں ہیں، وہ روتے ہوئے کہتا ہے کہ اے اللہ! میری جان نکال لے، مجھے موت دے دے لیکن مجھے قیامت کی رسوائی سے بچا لے۔”
جب صحابہ کرام نے حضرت ثعلبہؓ کو پایا تو وہ رو رو کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکے تھے۔ حضرت عمرؓ نے انہیں گلے لگایا تو انہوں نے پہلا سوال یہی کیا: “اے عمر! کیا رسول اللہ ﷺ کو میرے گناہ کا علم ہو گیا ہے؟ کیا میرے بارے میں منافقت کی کوئی آیت تو نازل نہیں ہوئی؟”
دربارِ رسالت ﷺ میں واپسی اور آخری لمحات
انہیں تسلی دے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ حضرت ثعلبہؓ شرم کے مارے سر نہیں اٹھا پا رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا سر مبارک اپنی گود میں رکھا، تو ثعلبہؓ نے اپنا سر پیچھے کر لیا اور روتے ہوئے عرض کی: “یا رسول اللہ! یہ ایک گنہگار کا سر ہے، یہ آپ کی گود کے لائق نہیں۔”
نبی کریم ﷺ نے انہیں تسلی دی اور ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ اسی دوران حضرت ثعلبہؓ نے عرض کی: “یا رسول اللہ! مجھے اپنے جسم کی ہڈیوں میں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے چیونٹیاں چل رہی ہوں۔” نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “یہ موت کا فرشتہ ہے جو تمہاری جان قبض کر رہا ہے۔”
اسی ندامت، خوف اور اللہ کی رحمت کی امید کے ساتھ اس نوجوان صحابی کی روح پرواز کر گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے خود انہیں غسل دیا اور جب آپ ﷺ ان کے جنازے کے ساتھ چل رہے تھے، تو آپ ﷺ پاؤں کے بل چل رہے تھے (جیسے ہجوم میں چلا جاتا ہے)۔ صحابہ نے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: “آسمان سے اتنے فرشتے ثعلبہ کے جنازے میں شرکت کے لیے آئے ہیں کہ مجھے قدم رکھنے کی جگہ مشکل سے مل رہی ہے۔”
یہ خوف خدا کا واقعہ ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
یہ عبرت ناک اور خوف خدا کا واقعہ ہمارے لیے درج ذیل اہم پیغامات رکھتا ہے:
- ہماری حالت اور صحابہ کا تقویٰ: حضرت ثعلبہؓ سے بد نگاہی اچانک اور نادانستہ ہوا تھا، پھر بھی وہ 40 دن روتے رہے۔ آج ہم تنہائیوں میں کتنے ہی گناہ کرتے ہیں لیکن ہمارے دلوں پر کوئی بوجھ محسوس نہیں ہوتا۔
- سچی توبہ کی طاقت: گناہ انسان کو اللہ سے دور کرتا ہے، لیکن سچی ندامت اور توبہ اسے فرشتوں کے ہجوم میں لے آتی ہے۔
- امید اور خوف کے درمیان زندگی: ایک سچے مسلمان کی زندگی اللہ کے خوف اور اس کی رحمت کی امید کے درمیان گزرنی چاہیے۔
- مزید پڑھنےکے لئے یہاں پر کلک کریں
علمی تحقیق اور حوالہ جات
قارئین کی درست رہنمائی کے لیے اس واقعے کی علمی تحقیق پیش کرنا ضروری ہے۔ یہ واقعہ امام ابن قدامہؒ کی ‘کتاب التوابین’ اور امام ابن الاثیرؒ کی ‘اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ’ میں تفصیل سے موجود ہے۔
وضاحت: اگرچہ علمائے جرح و تعدیل اور محدثین کے نزدیک سند کے اعتبار سے اس روایت میں ضعف (کمزوری) پایا جاتا ہے، تاہم علمائے کرام اسے ترغیب و ترہیب، اصلاحِ نفس اور اخلاقی تربیت کے لیے بیان کرتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا گناہوں سے اس حد تک ڈرنا دیگر بے شمار مستند (صحیح) روایات سے ثابت ہے۔
مزید جانکاری کے لئے یہاں پر کلک کریں
Pingback: ایک عبرت ناک واقعہ: ثعلبہ بن حاطب کا انجام اور ۳ اہم اسباق - Rashadi